Register

Sign In using your Campus Account

History Of Pakistan From 1857 To 1947 Notes In Urdu Now

1857ء کی جنگ کے بعد مسلمانوں کے حالات ناساز تھے۔ سرسید احمد خان نے ان کی اصلاح کے لیے کام شروع کیا۔

"ہم ایک لاکھ کروڑ مسلمان ایک قوم ہیں۔ ہمارے اپنے الگ تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی اصول ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ ہندو اور مسلمان ایک مشترکہ قوم بنا سکیں۔ اس لیے شمال مغرب اور مشرقی ہندوستان کے مسلم اکثریتی علاقوں کو ملا کر ایک علیحدہ مسلم ریاست بنائی جائے۔"

— ان انتخابات میں مسلم لیگ نے مسلمانوں کی نشستوں پر کلین سویپ کر کے ثابت کر دیا کہ وہ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔ 1947: تقسیمِ ہند اور قیامِ پاکستان history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

جنگ کی ناکامی کا تمام تر ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہرایا گیا، جس سے وہ سیاسی اور معاشی طور پر پیچھے رہ گئے۔

1935 کے ایکٹ کے تحت 1937 میں صوبائی انتخابات ہوئے۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

1930ء میں ڈاکٹر محمد اقبال نے خطبہ الہ آباد میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست کے قیام کا تصور پیش کیا۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمانوں میں شعور بیدار ہو رہا تھا کہ ان کی ثقافت، تہذیب اور مذہب کی حفاظت کے لیے ایک الگ وطن ناگزیر ہے۔ 23 مارچ 1940ء کا دن برصغیر کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے، جب لاہور میں قراردادِ لاہور (Qarardad-e-Lahore) منظور ہوئی۔ اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے مشرقی اور شمال مغربی علاقوں میں آزاد ریاستیں قائم کی جائیں۔ اس قرارداد کو بعد میں "قراردادِ پاکستان" کہا گیا، جو دراصل پاکستان کی داغ بیل تھی۔

ہندوستان کی تقسیم کے بعد، برصغیر کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا: ہندوستان اور پاکستان۔ پاکستان میں مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) اور مغربی پاکستان شامل تھے۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

1919 میں امرتسر میں جلاےوالا باغ میں ایک بڑا واقعہ ہوا۔ برطانوی فوجیوں نے ایک پرامن احتجاج پر گولی چلائی، جس میں سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ جلاےوالا باغ کا واقعہ برطانوی راج کے خلاف ہندوستانیوں کی ناراضی کو بڑھاوا دیا۔

Image Credits:

Image credit: Karen Eliot